اسلام آباد: 11 مئی 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے آج کے احتجاجی جلسے میں کارکنوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی جب کہ ملک بھر سے مزید کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ گاہ میں 40 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں، میڈیا اور پارٹی قیادت کے لئے دو الگ الگ اسٹیج بنائے گئے ہیں جب کہ سڑک کے دونوں اطراف قناتیں لگائی گئی ہیں۔ جلسہ گاہ پہنچنے والے کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی ہے اور پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف شہروں سے عوام کی بڑی تعداد ڈی چوک پہنچ رہی ہے۔
دہشتگردی کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے اس کے علاوہ ڈی چوک جانے والے تمام راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں اور صرف پیدل جانے والوں کو جلسہ گاہ کی جانب جانے دیا جارہا ہے۔ مقامی شہریوں، خواتین اور دیگر شہروں سے آنے والوں کے لئے پنڈال تک پہنچنے کے لئے الگ الگ راستے مقرر کئے گئے ہیں۔  پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 7 ہزار اہلکاروں کے علاوہ تحریک انصاف کے کارکن بھی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کررہے ہیں۔ جلسے کی مانیٹرنگ کے لئے مختلف مقامات پر 22 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اس کے علاوہ وزارت داخلہ کے خصوصی ہیلی کاپٹرز بھی فضائی نگرانی کے لئے وقفے وقفے سے محو پرواز ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے جلسے میں آنے والوں کو روکا جا رہا ہے، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں تحریک انصاف کے کارکنوں اور گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔ اگر کوئی ناخشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ دار وفاق اور پنجاب حکومت ہوگی۔

Post a Comment

 
Live News PK © 2013. All Rights Reserved. Powered by Blogger
Top