![]() |
| Livenewspk.com |
Wo Shahid Afridi Ne Pakistan Ko Aik Wicket Se Fatah Dilwai.
Shahid Afridi 44vein Over Mein M.Hafeez K Bahd Aaye. Us Waqt Pakistan Ko Win(Jeetnay) Ke Liye 39 Balls Pr 46 Runs Chahiye Thy. Shahid Afridi Aur Umer Gul Ne 32 Runs Ka Izaafa Kiya.
Lekin Kumar Ny Aik Hi Over Nein Umer Gul Aur M.Talha Ko Out Kr Diya.
Last(Aaghari) Over Mein Pakistan Ko 10 Runs Chahiyen Thy Win(Jeetney) Ke Liye Achanak Aishwan Ny Saheed Ajmal Ko Out(Bold) Kr Diya To Last(Aakhri) Batesman Junaid Khan Un K Samny Thy Unhon Ny Aik Runs Ki Dour Lagai Jis Sy Shahid Afridi Samny Aa Gaye. Aab (Bisaat)Baazi Shahid Afridi Ke Haath Mein Thi Aur Unhon Ny Aishwan Ko Lagatar Do(2) Balls Pr Chakkay Laga Kr Match Ko Apny Naam Kr Liya.
ایشیا کپ کے سب سے زیادہ دباؤ والےمیچ میں بھارت کو 245
رنز تک محدود کرنے کے بعد پاکستانی اننگز میں خود آؤٹ ہونے اور دوسرے کو
بھی آؤٹ کرانے کا جو کھیل شروع ہوا تھا وہ شاہد آفریدی کی ناقابل شکست 34
رنز کی کسی سنچری سے بڑھ کر شاندار اننگز کی وجہ سے پاکستان کی ایک وکٹ کی
جیت پر ختم ہوا۔
شاہد آفریدی 44 ویں اوور میں محمد حفیظ کی وکٹ
گرنے پر کھیلنے آئے تھے اس وقت پاکستان کو جیتنے کے لیے 39 گیندوں پر 46
رنز درکار تھے ۔ان پر دباؤ اس وقت بڑھ گیا جب سات گیندوں کے بعد صہیب مقصود
نے بھی پویلین کی راہ لی۔
آفریدی اور عمرگل نے 32 رنز کا قیمتی اضافہ کیا لیکن کمار نے عمرگل اور محمد طلحہ کو ایک ہی اوور میں آؤٹ کردیا۔
آخری اوور میں پاکستان کو جیت کے لیے دس رنز درکار تھے۔ ایشون نے سعید
اجمل کو بولڈ کیا تو آخری بیٹسمین جنید خان ترنوالہ کے طور پر ان کے سامنے
تھے لیکن ان کے ایک رن نے شاہد آفریدی کو موقع دے دیا کہ وہ بازی پلٹ دیں
جو انہوں نے ایشون کو لگاتار دو چھکے لگا کر پلٹ ہی دی۔
پاکستانی اننگز میں شرجیل خان اور احمد شہزاد نے
گیارہ اوورز میں 71 رنز بناکر مڈل آرڈر بیٹنگ کا کام آسان کر دیا تھا لیکن
بعد کے بیٹسمینوں نے اسے مشکل سے مشکل تر بنا دیا۔
شرجیل خان نے ایشون کی گیند پر بولڈ ہوکر ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے کا موقع گنوایا۔
احمد شہزاد کے کرارے اسٹروکس کپتان ویراٹ کوہلی کا
موڈ آف کررہے تھے لیکن لیگ اسپنر مشرا کی گیند پر وہ ایک آسان کیچ مڈ وکٹ
پر ایشون کو تھماگئے۔
’ پروفیسر‘ کی خود غرضی نے مصباح الحق کی وکٹ
بھارت کو دلا دی۔ مشرا کی گیند کو کھیل کر محمد حفیظ رن کے لیے آگے بڑھے
اور پھر ارادہ ترک کردیا لیکن مصباح الحق کے لیے جو آگے آچکے تھے کریز تک
واپسی ممکن نہ تھی۔
عمراکمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ پر جادیجا کے ہاتھوں کیچ ہوکر مشرا کی دوسری وکٹ بنے۔
پاکستان کی چوتھی وکٹ ایک سوتیرہ رنز پر گری۔ ایک
اچھی اوپننگ شراکت کے بعد پاکستان نے یہ چاروں وکٹیں صرف بیالیس رنز کے
اضافے پر بھارتی ٹیم کی جھولی میں ڈال دیں۔
محمد حفیظ اور صہیب مقصود کی 87 رنز کی شراکت نے
اسکور کی ڈبل سنچری مکمل کرادی لیکن محمد حفیظ جنہوں نے جادیجا کا ایک اوور
میڈن بھی کھیلا تھا 44 ویں اوور میں 75 رنز بناکر ایشون کی گیند پر ڈیپ
اسکوائر لیگ پر کیچ ہوگئے جس کے بعد بھارتی بولنگ کے ساتھ جو کچھ بھی برا
سلوک ہوا اس کے ذمہ دار آفریدی تھے۔
اس سے قبل بھارتی اننگز بھی کسی بھی موقع پر پاکستانی بولنگ پر مکمل طور پر حاوی نہیں رہی تھی۔
محمد حفیظ نے اپنے دوسرے ہی اوور میں شیکھر دھون
کی وکٹ حاصل کی اور جب دسویں اوور میں عمرگل نے ویراٹ کوہلی کی انتہائی وکٹ
حاصل کی تو بھارت کو مشکلات کا احساس ہو چلا تھا۔
کوہلی نے دو سال قبل اسی میدان میں ایشیا کپ میں پاکستانی بولنگ کے خلاف
183 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی لیکن اس بار وہ صرف پانچ رنز بناسکے۔
روہیت شرما نے ہاتھ نہیں روکے انہوں نے زیادہ غصہ
جنید خان پر اتارا لیکن نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وہ اپنا پہلا ون ڈے
انٹرنیشنل کھیلنے والے محمد طلحہ کی وکٹ بنے جنہوں نے راہانے کو بھی پویلین
کی راہ دکھائی۔
بھارتی اننگز اپنے درمیانی اوورز میں جس طرح لڑکھڑائی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ نو اوورز بغیر کسی چوکے کے خاموشی سے گزرگئے۔
رویندرا جادیجا اور رائیڈو کی نصف سنچریوں نے امید کا کچھ سامان پیدا کیا۔
جادیجا نے بارہ رنز پر محمد حفیظ کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ ڈراپ ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
ایشون کو بھی دو چوکے اس فائدے کی بدولت ملے جب امپائر آکسنفرڈ نے انہیں عمرگل کی گیند پر عمراکمل کے ہاتھوں آؤٹ نہیں دیا۔
سعید اجمل ایک بار پھر بھارتی بیٹسمینوں کے اعصاب
پر سوار رہے ان کے پہلے آٹھ اوورز میں صرف 31 رنز بنے لیکن آخری دو اوورز
میں انہوں نے صرف نو رنز دے کر رائیڈو، ایشون اور شامی کی وکٹیں حاصل
کرڈالیں۔

Post a Comment