![]() |
| Livenewspk.com |
Cror Dollar Lageny Ke Bawajood Aadhi Afghan Army Baghair Education Taleem
Aik America K Superintendent Institute(Nigran Idarey) Ki Report Ke Mutabiq Afghan Security Forces Mein Work(Kaam) Krny Waly Above Half(Aadhy Se Ziyada) Unparh Hein Bawajood Iske K Un Pr Kafi Rupee's Lagaye Gye Hein.
34year Ka Afghan Army(Fouji) Ka Yeh Kehna Tha K Isko Parhna Nhi Aata Iska Usko Afsoos Hai.
Gazni Province(Sooby) Sy Taluq Rakhny Waly Ali Akbar Ny Btaya K Us Ny 2008 Mein Army(Fouji) Ki Education(Taleem) Class Mein Jana Start(Shuru) Kiya Jahan Us Ne Education(Taleem) Hasil Ki.
Afghanistan Mein Yeh School's Contract Pr Chal Rahy Hein. Jis Wajah Sy Yeh Position(Haalat) Hein.
![]() |
| Livenewspk.com |
Ali Ka Kehna Hai K Unparh Hona Blind(Andha) Hony K Equal(Brabar) Hai.
In Urdu
ایک امریکی نگران ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی
سکیورٹی فورسز میں کام کرنے والے نصف کے قریب اہلکار ان پڑھ ہیں باوجود اس
کے کہ ان کی تعلیم پر کثیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔
34 سالہ افغان فوجی علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’میں ہمیشہ اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا ہے۔‘
غزنی صوبے سے تعلق رکھنے والے علی
اکبر نے 2008 میں افغان فوج میں شمولیت اختیار کی اور تین سال بعد فوج کے
تعلیمی پروگرام میں داخلہ لیا۔
’میں بہت زیادہ خوش تھا جب انہوں نے مجھے اس داخلے کے بارے میں بتایا۔‘
تاہم علی اکبر کے لیے سب کچھ ویسا نہیں ہوا جیسا
انہوں نے سوچا تھا کیونکہ بنیادی تعلیم کے پروگرام کے نتیجے میں وہ اس قابل
ہو سکتے تھے کہ وہ تمام حروف تہجی اور 1000 تک گنتی پڑھ سکیں اور اس کے
علاوہ اپنا نام لکھیں اور مختصر الفاظ سمجھ سکیں۔
64 گھنٹوں کے سبق لینے کے باوجود وہ اپنے نام کے پہلے تین حروف کے علاوہ مزید نہیں لکھ سکتے ہیں۔
درجنوں تعلیمی کلاسیں لینے کے باوجود علی اکبر نے بہت محدود تعلیم حاصل کی
علی کا کہنا ہے ’یہ کورس بہت مختصر تھا اور اس میں
سمجھنے کے لیے بہت کچھ تھا اور میری عمر کے بندے کے لیے آپ کو سبق یاد
کرنے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔‘
افغان وزارتِ تعلیم کے مطابق ایک تہائی افغان لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔
تین دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد کئی شہریوں کو
تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول جانے کا موقع ہی نہیں ملا یا علی اکبر کی طرح
بہت بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔
2009 میں امریکہ نے 200 کروڑ ڈالر کے خرچ پر مبنی
تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا جس کا مقصد فوج میں 2014 کے اختتام تک ہر ایک
کو پڑھنے لکھنے کے قابل بنانا تھا۔
حال ہی میں امریکی سپیشل انسپکٹر جنرل برائے بحالی
افغانستان یا ’سیگر‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریک فوجی حکام یہ
تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہدف حاصل کرنا اب شاید ممکن نہیں ہے۔
یہ ایک فعال اور جدید فوج کی تشکیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
علی کا کہنا ہے کہ بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ خواندگی کی تربیت کا محور ترسیل تھا نہ کہ نتائج جسے ’سیگر‘ نے بھی نمایاں کیا ہے۔
افغان فوج اور پولیس کے تیار کیا گیا تربیتی مواد
علی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے اساتذہ برے نہیں تھے مگر
وہ ان کورسز کو ٹھیکے پر چلا رہے تھے اس لیے ان کے لیے اس بات کی کوئی
اہمیت نہیں تھی کہ اس سے کوئی سیکھتا ہے یا نہیں۔‘
علی نے مزید بتایا کہ ’میرے بھائی جو اب بھی سکول میں ہیں مجھے الفاظ کے درست حروف بولنا سکھاتے ہیں۔‘
ایک دوسری وجہ افغان فوج میں بڑی تعداد میں بھرتی
ہونے والے فوجیوں کا چھوڑنا ہے جس کے بارے میں ’سیگر‘ کا کہنا ہے کہ نصف کے
قریب فوجی تربیت کے فوراً بعد چھوڑ جاتے ہیں۔
علی نے بتایا کہ ’ہمارے ایسے ساتھی جو سیکھنے میں
بہتر تھے اب فوج چھوڑ چکے ہیں کیونکہ جیسے ہی وہ لکھنے پڑھنے کے قابل ہوتے
ہیں وہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ انہیں اچھی ملازمت مل سکے۔‘
اس خواندگی پروگرام کی نگرانی کرنے والے حکام اب ’سیگر‘ کی سفارشات پر غور کر رہے ہیں تاکہ پروگرام کو بہتر بنایا جا سکے۔
علی کو امید ہے کہ ان کا بیٹا ایک دن سکول جا کر لکھ پڑھ سکے گا اور انہیں ایک دن پڑھ کر سنا سکے گا۔
ان دنوں وہ جرائد اور اخبارات کے صفحات الٹنا
پلٹنا پسند کرتے ہیں جن میں وہ تصاویر دیکھتے ہیں تاہم الفاظ سے انہیں کوئی
سمجھ نہیں آتی ہے۔
علی کا کہنا ہے کہ ’ان پڑھ ہونا اندھا ہونے کے برابر ہے۔‘


Post a Comment